ہوناور:24/اگست (ایس اؤنیوز) اولاد ، والدین کے لئے کوہ ِ نور ہیرے سے بھی زیادہ قیمتی نعمت ہے، یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ قیمت ہیرے کی ہوتی ہے۔ ہیرا کی قیمت کروڑوں روپیوں کی ہوتی ہے لوگ صرف اس کو دیکھنے کے لئے ترستے ہیں، ایسے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کوہِ نور ہیرے سے بھی زیادہ قیمتی ہیرے یعنی اولادعطا کی ہے تو ہمارے اتنی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کو اُسی اعلیٰ پیمانے پر تراشا جائے ، ہم اپنے بچوں کو مخلص اور تجربہ کار ، دین دار اساتذہ کو سونپیں تاکہ ان کو صحیح اسلامی خطوط پر تراشا جائے۔ ان خیالات کااظہاردارالارقم پبلک اسکول ٹمکور کے چیف پرموٹر اور 40مدرسوں کی سرپرستی و نگرانی کا تجربہ رکھنے والے مولانا خالد بیگ ندوی نے کیا۔
وہ یہاں 24اگست بروز جمعرات کی شام پرتی بھوویہ ہال میں خلیج مسلم کونسل شراوتی کے زیر اہتمام منعقدہ عظیم الشان تعلیمی ایوارڈ جلسے میں بطور مہمان ِ خصوصی خطاب کررہے تھے۔ مولانا نے اپنے پُر مغز اور فکریہ خطاب میں بچوں کو قیمتی کوہ ِ نور ہیرے سے بیش بہا قیمتی ہیرہ بتاتے ہوئے کہاکہ اگر بچوں کی تراش خراش کسی نااہل اور غیر کے ذریعے ہوگی تو جس طرح ہیرے ٹوٹنے کے بعد ا پنی قیمت کھو دیتاہے بالکل اسی طرح بچے بھی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اوربعد میں والدین ان کی نافرمانی اور ا ن دیکھی کا رونا روتے ہیں، قرآن و حدیث کے مطابق بچے اور مال ہمارے لئے ایک آزمائش ہیں، اس میں کامیاب ہونے کی فکرکرنا ہماری اصل ذمہ داری ہونے کی با ت کہی۔ انہوں نے والدین، سرپرستوں اور اساتذہ سے درخواست کی کہ وہ بچوں کو شریر کے لفظ سے مخاطب نہ کریں ، بچوں کے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دیں ، اخلاص سے کام کریں ،منصوبہ بندی کریں اس کو عملی جامہ پہننانے کے لئے کٹھن محنت کریں گے تو انشاء اللہ ضرور کامیابی ملے گی۔
مولانا نے مسلمانوں کے تعلیمی پسماندگی کی وجوہات کو اعداد وشمارات کے ذریعے واضح کرتے ہوئے بتایا کہ مسلمانوں کے 100بچوں میں سے صرف 55بچے مدرسہ یا اسکول میں داخلہ لیتے ہیں تو بقیہ 45بچے کوئی پڑھائی نہیں کرتے ، داخلہ لینے والے 55بچوں میں سے ایس ایس ایل سی ڈراپ آؤٹ ہوکر صرف اور صرف 7بچے رہ جاتے ہیں، گریجویشن میں مسلمانوں کا تناسب معمولی 3فی صد ہے باقی 93فی صد مسلمان تیم خواندہ ہیں یا ناخواندہ ہیں۔ ہم خود کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہیں ہم کومارنے کے لئے دوسروں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم خود اپنے آپ مررہے ہیں، اس کا علاج قرآن و حدیث میں تلاش کریں تو یہی ملتاہے کہ ہر حال میں تعلیم پر توجہ دیں۔ انجنئیرنگ ، میڈیکل ، مینجمنٹ، ٹکنالوجی جیسی جوبھی تعلیم ہو وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں حاصل کرنے کی بات کہی۔ مولانا نے بتایا کہ ہر بچہ انجنئیر یا ڈاکٹر نہیں ہوسکتا ، وہ خدا کی دی ہوئی صلاحیت کے مطابق پرورش پاتاہے، اللہ نے اسکو جوصلاحیت ،قابلیت اور ذہانت عطا کی ہے اس کو اسی راستہ کی طرف رہنمائی کریں ، ترغیب دیں تو بچہ کامیاب ہوگا، بچہ جس میدان میں بھی ایکسپرٹ بنے گا اس کی قدر اور مانگ ہوگی۔
خلیج مسلم شراوتی کونسل کے صدر خواجہ اُپکار نے جلسہ کی صدارت کی۔ جلسہ میں رابطہ سوسائٹی بھٹکل کے جنرل سکریٹری محمد یونس قاضیا، کینرا خلیج کونسل کے سکریٹری ابو محمد مختصر اور صدر عبدالقادر باشہ رکن الدین نے بھی اپنے اپنے خیالات کااظہار کیا۔ اس موقع پر زیبر منا، محمد حسین وغیرہ موجود تھے۔
پرو گرام میں ایس ایس ایل سی میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں اور قرآن حفظ مکمل کرنےو الے طلبا کو ایوارڈ سے نوازاگیا۔ پروگرام میں اتحاد پبلک اسکول ولکی کے طلبا نے شاندار ثقافتی مظاہرے پیش کئے۔
جلسے کا آغاز محمد سعد سڑلگی کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ معاویہ مظفر شیخ نے ہدیہ نعت پیش کی۔شبیر نے ترانہ پیش کیا۔ مولانا مظفر شیخ نے استقبال کرتے ہوئے کونسل کے رپورٹ کی خواندگی کی۔ مولوی سراج احإد سرلگی ندوی اورمولوی شمعون نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ مظفر نے شکریہ اداکیا۔